ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات ہائی کورٹ نے میریٹل ریپ کو قابل سزا جرم بنانے پر دیا زور

گجرات ہائی کورٹ نے میریٹل ریپ کو قابل سزا جرم بنانے پر دیا زور

Wed, 04 Apr 2018 00:53:38    S.O. News Service

احمد آباد،03؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)گجرات ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں کہا کہ میرٹل ریپ (ازدواجی عصمت دری)کو قابل سزا جرم قرار دیا جانا چاہئے۔ کورٹ نے کہا کہ غیر معمولی طور طریقے شادی تعلقات میں عصمت دری کو فروغ دیتے ہیں اور ازدواجی عصمت دری کو غیر قانونی بنا کر ہی اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔جج جے بی پاردیوالا نے ایک ڈاکٹر کی جانب سے داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا رویہ جو ازدواجی تعلقات میں عصمت دری کو فروغ دیتا ہے اس غیر قانونی یا جرم بنا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ایک ڈاکٹر کی زوجہ نے اپنے شوہر کے خلاف عصمت دری کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔اسی معاملے میں ملزم نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لئے گجرات ہائی کورٹ میں عرضی لگائی تھی۔حالانکہ جج نے ڈاکٹر کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو جزوی طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ دفعہ 376 (عصمت دری کی سزا) اور 377 (غیر معمولی جنسی تعلق) درخواست گزار کے خلاف نافذنہیں ہو گا۔کورٹ نے ڈاکٹر کے خلاف دفعہ 354 (جنسی حملہ) اور498 (A) کے تحت مقدمہ درج کرنے کو کہا ہے۔ملزم شخص سابرکاٹھا ضلع کے عدر میں ڈاکٹر ہے۔وہیں ڈاکٹر کی زوجہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کا شوہر ذہنی اور جسمانی استحصال کرتا ہے اور غیر فطری جنسی تعلقات بنانے کا دباؤ بناتا ہے۔اس پر ہائی کورٹ نے پولیس کو ڈاکٹر کے خلاف دفعہ 354 (جنسی استحصال) اور498 (A) کے تحت مقدمہ درج کرنے کو کہا ہے۔جسٹس پاردیوالا نے اپنے حکم میں کہاکہ ازدواجی عصمت دری کو غیر قانونی یا جرم بنانے سے یہ تباہ کن رویہ ختم ہو جائے گا جس کی شادی تعلقات میں عصمت دری کو فروغ دیتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے پولیس سے ڈاکٹر کے خلاف عصمت دری اورغیر فطری جنسی تعلق کے الزام ہٹانے کی ہدایت کی۔کورٹ نے ڈاکٹر کے خلاف ظلم اور جنسی تشدد کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔


Share: